دل والو! کیوں دل کی دولت یوں بیکار لٹاتے ہو ​

کیوں اس اندھیاری بستی میں پیار کی جوت جگاتے ہو ​
تم ایسے نادان جہاں میں کوئی نہیں ہے کوئی نہیں​
پھر ان گلیوں جاتے ہوئے پگ پگ ٹھوکر کھاتے ہو ​
سندر کلیو ، کومل پھولو ! یہ تو بتاؤ یہ تو کہو ​
آخر تم میں کیا جا دو ہے ،کیوں من میں بس جاتے ہو ​
یہ موسم رم جھم کا موسم ، یہ برکھا یہ مست فضا​
ایسے میں آؤ تو جانیں ایسے میں کب آتے ہو ​
ہم سے روٹھ کے جانے والو اتنا بھید بتا جاؤ​
کیوں نت راتوں کو سپنوں میں آتے ہو من جاتے ہو ​
چاند ستاروں کے جھرمٹ میں ،پھولوں کی مسکاہٹ میں ​
تم چھپ چھپ کر ہنستے ہو ،تم روپ کا مان بڑھاتے ہو ​
چلتے پھرتے روشن رستے ،تاریکی میں ڈوب گئے​
سو جاؤ اب جالب تم بھی کیوں آنکھیں سلگاتے ہو ​